٢٩٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: انطلق رجلان من أهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فوجداه قد صدر عن البيت عامدًا إلى منى، فطافا بالبيت ثم أدركاه (فقصا) (١) عليه قصتهما (فقالا) (٢): يا أمير المؤمنين (إن) (٣) ابن عم لنا قتل نحن إليه شرع سواء في الدم وهو ساكت عنهما لا يرجع إليهما شيئًا، حتى ناشداه اللَّه، فحمل عليهما، ثم ذكراه اللَّه فكف عنهما، ثم قال: عمر ويل لنا إذا لم نذكر باللَّه، وويل لنا إذا لم نذكر اللَّه، فيكم شاهدان (ذوا) (٤) عدل تجيئان بهما على من قتله (فنقيدكم) (٥) منه، و (إلا) (٦) حلف من يدرأكم باللَّه: ما قتلنا ولاعلمنا قاتلًا، فإن نكلوا حلف منكم خمسون، ثم كانت لكم الدية (٧).حضرت قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس چل کر آئے انہوں نے آپ کو بیت اللہ سے منی کی طرف لوٹتا ہوا پایا ان دونوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر انہوں نے آپ کو پا لیا تو انہوں نے آپ سے اپنا واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ! ہمارا بھتیجا قتل ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے پہلے تو ان کی بات کی طرف توجہ نہ دی پھر ان سے فرمایا کہ دو عادل آدمی اس کے قاتل کے خلاف گواہی دے دیں۔ اگر وہ گواہی نہ دیں تو پچاس آدمی گواہی دیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں پھر تمہیں دیت ملے گی۔