حدیث نمبر: 29629
٢٩٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة أن سليمان بن يسار (حدث) (١) أن عمر بن عبد العزيز قال: ما رأيت مثل القسامة قط أقيد بها واللَّه يقول: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [الطلاق: ٢]، وقالت الأسباط: ﴿وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كنا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ [يوسف: ٨١]، وقال اللَّه: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [الزخرف: ٨٦].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا : میں نے کبھی قسامت جیسا قانون نہیں دیکھا جس کے ذریعہ میں قصاص لے لوں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ ترجمہ :۔ اور گواہی دیں تم میں سے دو عادل شخص اور فرمایا ترجمہ :۔ اور ہم بیان نہیں کر رہے مگر وہ جو ہم جانتے ہیں اور ہم غیب کی باتوں کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور اللہ رب العزت نے فرمایا : مگر جو شہادت دے حق کی اور وہ جانتے بھی ہوں۔ حضرت سلیمان بن یسار نے فرمایا : قسامت برحق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا اس درمیان کہ انصار کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان میں سے ایک آدمی چلا گیا پھر وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چلے گئے پس ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو خون میں لت پت پایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے، یہود نے ہمیں مار دیا اور انہوں نے یہود میں سے ایک آدمی کا نام لیا حالانکہ ان کے پاس شہادت نہیں تھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہارے علاوہ دو گواہ گواہی دے دیں تو میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالہ کردوں گا پس ان کے پاس شہادت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پچاس قسموں کے ذریعہ حقدار بن جاؤ۔ میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالے کردوں گا، ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ناپسند کرتے ہیں کہ ان دیکھی بات پر قسم اٹھائیں پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کے پچاس افراد سے قسم لینے کا ارادہ کیا۔ تو انصار کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کب یہ بات ان سے قبول کرسکتے ہیں ایسے تو وہ ہمارے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کریں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرمائی۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (حدثه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29629
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29629، ترقيم محمد عوامة 28385)