مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
من قال: ليس لقاتل المؤمن توبة باب: جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
٢٩٥٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (فضيل) (١) عن أبي نصر ويحيى الجابر عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: يا أبا عباس أرأيت رجلًا قتل (٢) متعمدًا ما جزاؤه؟ قال: ﴿(جَزَآؤُهُ و) (٣) جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ﴾ [النساء: ٩٣] الآية، قال: أرأيت إن تاب وآمن وعمل صالحًا ثم اهتدى؟ فقال: وأنى له التوبة ثكلتك أمك، إنه يجيء يوم القيامة آخذا برأسه تشخب أوداجه حتى (يقف) (٤) به عند (العرش) (٥) فيقول: يا رب سل هذا ⦗٢٢٦⦘ (فيم) (٦) قتلني (٧).حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ابو عباس ! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا ؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ تیری ماں تجھے گم پائے ؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا ؟