حدیث نمبر: 29545
٢٩٥٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (فضيل) (١) عن أبي نصر ويحيى الجابر عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: يا أبا عباس أرأيت رجلًا قتل (٢) متعمدًا ما جزاؤه؟ قال: ﴿(جَزَآؤُهُ و) (٣) جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ﴾ [النساء: ٩٣] الآية، قال: أرأيت إن تاب وآمن وعمل صالحًا ثم اهتدى؟ فقال: وأنى له التوبة ثكلتك أمك، إنه يجيء يوم القيامة آخذا برأسه تشخب أوداجه حتى (يقف) (٤) به عند (العرش) (٥) فيقول: يا رب سل هذا ⦗٢٢٦⦘ (فيم) (٦) قتلني (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ابو عباس ! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا ؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ تیری ماں تجھے گم پائے ؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا ؟

حواشی
(١) في [ط]: (فضل).
(٢) في [هـ]: زيادة (مؤمنًا).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ب]: (يفيق).
(٥) في [ب]: (الفرش).
(٦) في [أ، هـ]: (فيما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29545
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو نصر هو عبد اللَّه بن عبد الرحمن الضبي ثقة، ويحيى فيه ضعف، أخرجه الطبراني ٥/ ٢١٨، وورد مرفوعًا، أخرجه أحمد (١٩٤١)، والنسائي ٧/ ٨٥، وابن ماجه (٢٦١٢)، والحميدي (٤٨٨)، وعبد بن حميد (٢٦٢١)، وابن المبارك في الزهد (١٣٥٩)، والنحاس في الناسخ ص ٣٤٦، والطبراني ١٢/ (١٢٥٩٧)، والضياء في المختارة ١٠/ ٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29545، ترقيم محمد عوامة 28304)