حدیث نمبر: 29533
٢٩٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن طارق بن عبد الرحمن قال: كنت عند شريح فجاءه سائل قد خرق جرابه وخمشت ساقه فقال: إني دخلت دار قوم فعقرني كلبهم، فقال شريح: إن كان أذنوا لك فهم ضامنون، وإلا فلا ضمان عليهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن عبدالرحمن نے ارشاد فرمایا کہ میں قاضی شریح کے پاس تھا کہ ایک سائل آپ کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کا تھیلا پھٹا ہوا تھا اور اس کی پنڈلی زخمی تھی پس وہ کہنے لگا : میں فلاں لوگوں کے گھر میں داخل ہوا تو ان کے کتے نے مجھے کاٹ لیا۔ اس پر حضرت شریح نے فرمایا : اگر تو انہوں نے تجھے اجازت دی تھی پھر تو وہ ضامن ہوں گے ورنہ ان پر کوئی ضمان نہیں ہوگا۔