حدیث نمبر: 29510
٢٩٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن سعيد بن وهب قال: خرج رجالٌ سَفْرٌ فصحبهم رجل فقدموا وليس معهم، قال: فاتهمهم أهله، فقال شريح: شهودكم أنهم قتلوا صاحبكم، وإلا حلفوا باللَّه ما قتلوه، فأتوا بهم عليًّا وأنا عنده، ففرق بينهم فاعترفوا، فسمعت عليا يقول: أنا أبو الحسن (القرم) (١) فأمر بهم فقتلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت سعیدبن وہب نے ارشاد فرمایا : چند آدمی سفر میں نکلے تو ان کے ساتھ ایک آدمی بھی ہو لیا جب وہ واپس آئے تو وہ آدمی ان کے ساتھ نہیں تھا راوی کہتے ہیں : اس آدمی کے گھر والوں نے ان مسافروں پر الزام لگا دیا اس پر حضرت شریح نے فرمایا : تم گواہ لاؤ اس بات پر کہ انہوں نے تمہارے ساتھی کو قتل کیا ہے ورنہ یہ لوگ اللہ کی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے قتل نہیں کیا پس لوگ انہیں لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور میں بھی آپ کے پاس تھا آپ نے ان کے درمیان جدائیگی کی تو انہوں نے اعتراف کرلیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا، میں ابو الحسن تجربہ کار ہوں پھر آپ کے حکم سے ان کو قتل کردیا گیا۔

حواشی
(١) أي: السيد الكريم، وفي [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (القوم)، وهو كذلك في بعض نسخ صحيح مسلم، انظر: شرح النووي ٧/ ١٨٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29510، ترقيم محمد عوامة 28269)