مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يكره أن يمر الرجل بين يدي الرجل وهو يصلي باب: جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو نا پسند کیا ہے
حدیث نمبر: 2947
٢٩٤٧ - حدثنا وكيع عن (أسامة) (١) بن زيد عن (محمد بن قيس) (٢) عن أمه عن أم سلمة قالت: كان النبي ﷺ يصلي فمر بين يديه عبد اللَّه، أو عمر بن أبي ⦗١٢٣⦘ سلمة، فقال بيده فرجع، فمرت زينب ابنة أم سلمة فقال بيده هكذا فمضت، (فلما صلى) (٣) رسول اللَّه ﷺ قال: "هن أغلب" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے آگے سے عبداللہ بن ابی سلمہ یا عمر بن ابی سلمہ گذرنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ رک گئے۔ پھر زینب بنت ابی سلمہ گذرنے لگیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی ہاتھ سے اشارہ کیا لیکن وہ نہیں رکیں اور آگے سے گذر گئیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ یہ لڑکیاں ہم پر غالب ہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (رسامة).
(٢) في حاشية [ب]: (المدني قاص عمر بن عبد العزيز).
(٣) في [جـ]: (فقال).
(٤) مجهول؛ لحال أم محمد بن قيس، أخرجه أحمد (٢٦٥٢٣)، وابن ماجه (٩٤٨)، والطبراني ٢٣/ (٨١٥).