حدیث نمبر: 29386
٢٩٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني عبد العزيز (بن عمر قال: كتب إليّ عمر بن عبد العزيز) (١) في رجل قال مواليه: لا (نعقل) (٢) عنه، فكتب إلى القاضي أن ألزمهم العقل، فما أشك أنهم كانوا، (آخذي) (٣) ميراثه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالعزیز بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن عبدالعزیز کو ایک ایسے آدمی کے بارے میں خط لکھا گیا کہ جس کے آقاؤں نے یوں کہا تھا کہ ہم اس کی طرف سے دیت ادا نہیں کریں گے پس آپ نے قاضی کو خط لکھا کہ وہ ان لوگوں پر دیت لازم کرے اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ وہ اس کی وراثت لینے والے ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [أ]: (تعقل).
(٣) في [أ، هـ]: (أهدى).