مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الرجل يقتل فيعفو بعض الأولياء باب: اس آدمی کا بیان جس کو قتل کردیا گیا پس اس کے بعض اولیاء نے اس کا خون معاف کردیا
٢٩٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم في رجل قتل رجلًا متعمدًا فعفا بعض الأولياء، فرفع ذلك إلى عمر فقال لعبد اللَّه: قل فيها، فقال: أنت أحق أن تقول (١) يا أمير المؤمنين، فقال عبد اللَّه: إذا عفا بعض الأولياء فلا قود، يحط عنه (حصة) (٢) الذي عفا، (و) (٣) لهم بقية الدية، فقال عمر: (ذاك) (٤) الرأي، ووافقت ما في نفسي (٥).حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نے کسی شخص کو عمداً قتل کردیا تو مقتول کے بعض سرپرستوں نے قاتل کو معاف کردیا پھر یہ معاملہ حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا، آپ اس بارے میں کچھ فرمائیے حضرت عبداللہ نے فرمایا : اے امیر المومنین ! ویسے آپ کچھ کہنے کے زیادہ حقدار ہیں پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا : جب بعض سرپرستوں نے قاتل کو معاف کردیا تو قصاص نہیں ہوگا اور مقتول کے ذمہ سے معاف کرنے والوں کا حصہ ختم کردیا جائے گا۔ اور ان لوگوں کو بقایا دیت ملے گی اور اس پر حضرت عمر نے فرمایا : یہ درست رائے ہے : اور تم نے میرے دل میں موجود بات کی موافقت کی۔