حدیث نمبر: 29355
٢٩٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن يحيى بن سعيد عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: قام عمر بمنى فسأل الناس (فقال) (١): من عنده علم من ميرات المرأة من عقل زوجها؟ فقام الضحاك بن سفيان الكلابي فقال: ادخل قبتك حتى أخبرك، (فدخل) (٢) فأتاه فقال: كتب إلي رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (٣) أن أورث امرأة أشيم الضبابي من عقل زوجها (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے منٰی میں کھڑے ہو کر لوگوں سے سوال کیا ! کون شخص ہے جس کے پاس اس بارے میں علم ہو کہ کیا عورت اپنے خاوند کی دیت کی وارث بنے گی ؟ اس پر حضرت ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا آپ اپنے خیمہ میں داخل ہوجائیں یہاں تک کہ میں آپ کو اس بارے میں خبردوں آپ داخل ہوگئے پس حضرت ضحاک آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خط لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث بناؤں۔

حواشی
(١) زيادة في [جـ، م]: (فقال).
(٢) زيادة في [جـ، ك، م]: (فدخل).
(٣) سقط من: [ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٧٤٥)، والنسائي في الكبرى (٦٣٦٥)، والطبراني (٨١٤٠)، وعبد الرزاق (١٧٧٦٥)، وسعيد بن منصور (٢٩٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29355، ترقيم محمد عوامة 28124)