حدیث نمبر: 29266
٢٩٢٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن قيس الأسدي عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن (سبرة) (١) أن رجلًا من المسلمين قتل رجلًا من أهل الحيرة فكتب (فيه) (٢) إلى عمر بن الخطاب فكتب عمر أن اقتلوه به، فقيل لأخيه حنين: اقتله قال: حتى يجيء الغضب قال: فبلغ عمرَ أنه من فرسان المسلمين، قال: فكتب (عمر) (٣) أن لا تقيدوه به، قال: فجاءه الكتاب وقد قتل (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالملک بن میسرہ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے ایک آدمی نے مقام حیرہ کے ایک عیسائی باشندے کو قتل کردیا۔ پھر اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا : تم اس کو اس کے قصاص میں قتل کردو پس اس مقتول کے بھائی حنین کو کہا گیا کہ اس کو قتل کردو راوی کہتے ہیں یہاں تک اس کو غصہ آگیا اور اس نے قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ قاتل مسلمانوں کے شہسواروں میں سے ہے حضرت عمر نے پھر خط لکھا کہ تم اسے قصاصاً قتل مت کرو راوی کہتے ہیں : آپ کا خط ان کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کو قتل کردیا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (شبرمة).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [جـ، ك، م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29266
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29266، ترقيم محمد عوامة 28041)