حدیث نمبر: 2853
٢٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي (خشينة) (١) حاجب بن عمر قال: دخلت مع (الحكم) (٢) بن الأعرج على بكر المزني وهو مريض فقال: أصليتم العصر؟ قالوا: نعم، فقام فصلى صلاة فأخفَّها لمرضه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو خشینہ کہتے ہیں کہ میں حضرت حکم بن اعرج کے ساتھ بکر مزنی کی بیماری میں ان کے پاس گیا، انہوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا جی ہاں، اس پر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایسی نماز پڑھی جو ان کی بیماری کے لئے انتہائی آرام دہ تھی۔

حواشی
(١) ورد في [أ]: (حسنية)، وفي حاشية [ب]: (الثقفي).
(٢) في حاشية [ب]: (وهو عمه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2853
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2853، ترقيم محمد عوامة 2842)