٢٨٤٢٣ - حدثنا ابن علية عن غالب قال: إنا لجلوس إذ (دخل رجل) (١) فقال: حدثني أبي عن جدي أن النبي ﷺ قال: "من ابتدأ قومًا بسلام فضلهم بعشر ⦗٥٣٨⦘ حسنات"، وقال: بعثني أبي إلى رسول اللَّه ﷺ وقال: ائته فأقرئه السلام وقل له: هو يطلب إليك أن تجعل له العرافة من بعده قال: "العرافة حق، العرافة حق، ولا بد من عرفاء، ولكن العريف بمنزلة قبيحة" (٢).حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی داخل ہوا اور کہا کہ میرے دادا فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے سلام میں پہل کرے تو وہ ان سے دس نیکیوں میں بڑھ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س بھیجا اور فرمایا : کہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے بعد نگران مقرر فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگران بنانا ضروری ہے، لیکن نگران برے مرتبہ میں ہوگا۔