مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الرجل ينقطع (شسعه) فيسترجع باب: اس شخص کا بیان جس کے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اِنا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہو
حدیث نمبر: 28351
٢٨٣٥١ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان (بن) (١) دينار التمار عن عون بن عبد اللَّه قال: كان عبد اللَّه يمشي مع (ناس من) (٢) أصحابه ذات يوم فانقطع شسع نعله فاسترجع، فقال له بعض القوم: يا أبا عبد الرحمن تسترجع على سير؟ قال: ما بي إلا أن تكون السيور (كثيرة) (٣) ولكنها مصيبة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے اصحاب میں سے چند لوگوں کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ اس پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ لوگوں میں سے کسی نے آپ سے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! آپ ایک تسمہ پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے افسوس نہیں کیونکہ تسمہ تو بہت ہیں لیکن یہ مصیبت ہی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (كثير).
(٤) منقطع؛ عون لم يسمع من ابن مسعود.