حدیث نمبر: 28349
٢٨٣٤٩ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن أبي (مراوح) (١) عن أبي ذر قال: قلت يا رسول اللَّه أي الأعمال أفضل؟ قال: "إيمان باللَّه وجهاد في سبيله" قال: قلت أي الرقاب أفضل؟ قال: "أنفسها عند أهلها وأغلاها ثمنًا"، قلت: فإن لم أطق ذلك؟ قال: "تعين ضائعًا أو تصنع لأخرق"، قال (٢): فإن لم أستطع (ذلك) (٣)؛ قال: "فدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سا عمل افضل ترین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانا، اور اس کے راستہ میں جہاد کرنا ، میں نے پوچھا : کون سا غلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہو۔ میں نے پوچھا؛ اگر میں اس کی طاقت نہ رکھتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کرویا کسی بیوقوف سے اچھا سلوک کرو۔ میں نے کہا : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کو برائی سے بچاؤ ، اس لیے کہ یہ ایسا صدقہ ہے جو تم اپنی ذات پر کرتے ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ط]: (مرواح).
(٢) في [أ، هـ]: زيادة (قلت).
(٣) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28349
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥١٨)، ومسلم (٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28349، ترقيم محمد عوامة 27181)