٢٨٣٢٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: أدركت سعد بن عبادة وهو ينادي على أُطُمِهِ: من أحب شحمًا (و) (١) لحمًا فليأت سعد بن عبادة، ثم أدركت ابنه بعد ذلك يدعو به، ولقد كنت أمشي في طريق المدينة وأنا شاب فمر علي عبد اللَّه بن عمر (متطلعًا) (٢) إلى أرضه بالعالية فقال: يا فتى (٣) انظر هل ترى على أُطُم سعد بن عبادة أحدًا ينادي؟ فنظرت فقلت: لا، فقال: صدقت (٤).حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن عبادہ کو پایا کہ وہ اپنے بلند مکان پر یوں ندا لگا رہے تھے : جو شخص چربی اور گوشت کو محبوب رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ سعد بن عبادہ کے پاس آجائے۔ راوی فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد میں نے ان کے بیٹے کو یہ ندا لگاتے ہوئے پایا۔ اور میں زمانۂ جوانی میں مدینہ کے راستہ میں چل رہا تھا کہ مجھ پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا جو جنگل میں اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے جوان ! ذرا دیکھو کہ کوئی سعد بن عبادہ کے بلند گھر میں ندا لگا رہا ہے ؟ میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔