حدیث نمبر: 28276
٢٨٢٧٦ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن أبيه يبلغ به النبي ﷺ قال: كان (من) (١) أريى الربا تفضل الرجل في عرض أخيه بالشتم، وإن أكبر الكبائر شتم الرجل والديه"، قيل: يا رسول اللَّه وكيف يشتم والديه؟ قال: "يسب الناس فيستسب (لهما) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو نجیع فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک برا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت خراب کرنے میں حد سے گزر جائے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیسے کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگوں کو گالی دیتا ہے تو وہ جواباً اس کے والدین کو گالی دیتے ہیں۔

حواشی
(١) زيادة (من) من: [جـ، ز، م].
(٢) في [ب]: (بهما)، وفي [ط، هـ]: (الناس بهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28276
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو نجيح ليس صحابيًا، أخرجه ابن أبي الدنيا في الصمت (١٧٤)، وورد من حديث ابن أبي نجيح عن أبيه عن قيس بن سعد، أخرجه البزار (٣٧٤٣)، والطبراني (١٨/ [٨٩٩]).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28276، ترقيم محمد عوامة 27108)