حدیث نمبر: 28209
٢٨٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن حميد عن أنس قال: قالت المهاجرون: يا رسول اللَّه! ما رأينا مثل قوم قدمنا عليهم أحسن بذلًا من كثير، ولا أحسن مواساة في قليل، كفونا المؤنة، وأشركونا في المهنأ، قد (خشينا) (١) أن يذهبوا بالأجر كله، فقال: "لا، ما أثنيثم عليهم ودعوتم اللَّه لهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ہم نے ان سے زیادہ اچھا کثرت سے خرچ کرنے والا اور تھوڑا ہونے کے باوجود غمخواری کرنے میں ان سے اچھا کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہمارا خرچہ برداشت کیا ، اور ہمیں اپنی خوشیوں میں شریک کیا۔ ہمیں ڈر ہے کہ سارے کا سارا اجر یہ لوگ ہی لے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ! ایسی بات نہیں۔ بہرحال تم ان کی تعریف مت کرو، اور تم اللہ سے ان کے حق میں دعا کرو۔

حواشی
(١) في [ث]: (خفنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28209
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣١٢٢)، وأبو داود (٤٨١٢)، والترمذي (٢٤٨٧)، والحاكم (٢/ ٦٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٨١)، والبخاري في الأدب المفرد (٢١٧)، والبيهقي (٦/ ١٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28209، ترقيم محمد عوامة 27041)