حدیث نمبر: 28196
٢٨١٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت عروة بن النزال (يحدث عن معاذ بن جبل أن النبي ﷺ) (١) قال له: " (ألا) (٢) أدلك على أملك ذلك كله؟ "، قال: قلت: يا رسول اللَّه (ما) (٣) قولك: "ألا أدلك على أملك ذلك كله؟ " (قال) (٤): فأشار [رسول اللَّه ﷺ (بيده) (٥) إلى لسانه، قال: قلت يا رسول اللَّه وإنا لنؤاخذ] (٦) بما نتكلم به؟ قال: "ثكلتك أمك يا معاذ وهل يكب الناس على ⦗٤٧٢⦘ (مناخرهم) (٧) إلا حصائد ألسنتهم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان تمام چیزوں کی جڑ نہ بتادوں ؟ آپ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کہنا کہ میں تمہیں تمام چیزوں کی جڑ نہ بتادوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتے ہیں ان سب پر مؤاخذہ ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ ! تمہیں تمہاری ماں گم پائے۔ لوگوں کو جہنم میں پیشانی کے بل گرانے والی چیز اسی زبان کی کھیتیاں ہوں گی۔

حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [هـ]: (أن).
(٣) زيادة في: [ث].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [جـ، م]: زيادة (بيده).
(٦) سقط من: [أ، ب، ط].
(٧) في [ط]: (وجوههم).
(٨) مجهول؛ لجهالة عروة بن النزال، أخرجه أحمد (٢٢٠٦٨)، والنسائي (٤/ ١٦٦)، وابن أبي عاصم في الجهاد (١٦)، والطيالسي (٥٦٠)، وابن جرير في التفسير (٢١/ ١٠)، والمروزي في قيام الليل (ص ٤٧)، وأبو نعيم في الحلية (٤/ ٣٧٦)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٦)، والشاشي (١٣٦٦)، والمروزي في تعظيم الصلاة (١٩٧)، والطبراني (٢٠/ [٣٠٥])، وهناد في الزهد (١٠٩٠)، والبيهقي (٩/ ٢٠)، وأصله عند الترمذي (٢٦١٦)، وابن حبان (٢١٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28196، ترقيم محمد عوامة 27029)