حدیث نمبر: 28140
٢٨١٤٠ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسور بن هلال قال: أُتيّ عبد اللَّه بصحيفة فيها حديث، فدعا بماء فمحاها ثم غسلها ثم أمر بها فأحرقت، ثم قال: أُذكّر باللَّه (رجلًا) (٢) يعلمها عند أحد إلا أعلمني به، واللَّه لو أعلم أنها (بدير هند) (٣) (لابتلغت) (٤) إليها، بهذا هلك أهل الكتاب قبلكم حتى نبذوا كتاب اللَّه وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک صحیفہ لایا گیا جس میں لکھی ہوئی تحریر تھی۔ انہوں نے پانی منگوا کر اسے صاف کیا اور پھر جلانے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کے باے میں تمہیں علم ہو کہ اس کے پاس حدیث لکھی ہوئی ہے تو مجھے ضرور بتاؤ۔ خدا کی قسم ! اگر مجھے پتہ چلے کہ دیرہند میں کوئی لکھی ہوئی حدیث ہے کہ میں پیدل جا کر اس کو مٹاؤں گا پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔

حواشی
(١) في [ب، ط]: (بن).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (تريد هند)، وفي [هـ]: (بدار هند).
(٤) في [جـ]: (لانتعلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28140، ترقيم محمد عوامة 26977)