مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كان يستحب أن يسأل ويقول: سلوني باب: جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
حدیث نمبر: 28110
٢٨١١٠ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد (بن عرعرة) (١) قال: أتيت الرحبة فإذا (أنا) (٢) بنفر جلوس قريبًا من ثلاثين أو أربعين رجلًا فقعدت معهم، ⦗٤٥١⦘ فخرج علينا علي، فما رأيته (أنكر) (٣) أحدًا من القوم غيري، فقال: ألا رجل يسألني فينتفع وينتفع جلساؤه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کشادہ میدان میں گیا تو میں نے وہاں تیس یا چالیس کے قریب آدمیوں کو بیٹھا ہوا پایا ، تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے لوگوں میں سے کسی کو میرے سوا نہ پہچانا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھ سے سوال کر کے فائدہ اٹھائے اور اس کے ہمنشین بھی فائدہ اٹھائیں۔
حواشی
(١) في [جـ، م]: زيادة (بن عرعرة).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (أنكرته).
(٤) مجهول؛ لجهالة خالد بن عرعرة.