حدیث نمبر: 2809
٢٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن محمد بن إسحاق عن زرعة (بن) (١) إبراهيم عن خالد بن اللجلاج قال: كن النساء يؤمرن أن يتربعن إذا جلسن في الصلاة، ولا (يجلسن) (٢) جلوس الرجل على أوراكهن يتقى ذلك على المرأة مخافة أن يكون منها الشيء (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن لجلاج فرماتے ہیں کہ عورتوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں اس طرح بیٹھیں کہ اپنے دائیں یا بائیں پاؤں کو پنڈلی اور ران سے باہر نکالیں۔ وہ مردوں کی طرح اپنے کو لہوں پر نہ بیٹھیں۔ عورتوں کے اس طرح بیٹھنے سے ان کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (ابن)، وفي بقية النسخ: (عن)، وفي حاشية [ب]: (قال أبو حاتم: ليس بالقوي) وفي هامشها: (أبو مشيع الزبيدي).
(٢) في [ب]: (تجلسن).