حدیث نمبر: 28076
٢٨٠٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن أبي بشر عن جندب بن عبد اللَّه البجلي ثم (القسري) (١) قال: استأذنت على حذيفة ثلاث مرات، فلم يؤذن لي فرجعت فإذا (رسوله) (٢) قد لحقني فقال: ما ردك؟ قلت: ظننت أنك نائم، قال: ما كنت لأنام حتى أنظر من أين تطلع الشمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی قسری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت چاہی، انہوں نے اجازت نہیں دی تو میں واپس لوٹ گیا، اتنے میں آپ کا قاصد مجھے ملا۔ اس نے پوچھا : کہ کس چیز نے آپ کو واپس لوٹا دیا ؟ میں نے عرض کیا : کہ میں سمجھا کہ آپ سو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میں سوتا نہیں ہوں یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے یہ حدیث امام محمد سے بیان کی۔ تو آپ نے فرمایا : کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے صحابہ نے یہ عمل کیا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (القشري).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (رسول اللَّه ﷺ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28076
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28076، ترقيم محمد عوامة 26914)