مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كان لا يدع أحدا من أهله ينام بعد الفجر حتى تطلع الشمس باب: جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑتا کہ وہ فجر کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک سو جائیں
٢٨٠٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن أبي بشر عن جندب بن عبد اللَّه البجلي ثم (القسري) (١) قال: استأذنت على حذيفة ثلاث مرات، فلم يؤذن لي فرجعت فإذا (رسوله) (٢) قد لحقني فقال: ما ردك؟ قلت: ظننت أنك نائم، قال: ما كنت لأنام حتى أنظر من أين تطلع الشمس (٣).حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی قسری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت چاہی، انہوں نے اجازت نہیں دی تو میں واپس لوٹ گیا، اتنے میں آپ کا قاصد مجھے ملا۔ اس نے پوچھا : کہ کس چیز نے آپ کو واپس لوٹا دیا ؟ میں نے عرض کیا : کہ میں سمجھا کہ آپ سو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میں سوتا نہیں ہوں یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے یہ حدیث امام محمد سے بیان کی۔ تو آپ نے فرمایا : کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے صحابہ نے یہ عمل کیا ہے۔