مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره ركوب ثلاثة على الدابة باب: جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
حدیث نمبر: 28068
٢٨٠٦٨ - حدثنا شريك عن (جابر عن) (١) عامر قال: خرجت إلى (الحيرة) (٢) ⦗٤٣٩⦘ أنظر إلى الفيل (٣)، فرأيت الحارث الأعور راكبًا وخلفه ردف، قال: فقال: لو صلح ثلاثة (حملناك) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : کہ میں حیرہ مقام کی طرف نکلا تاکہ میں ہاتھی دیکھوں، پس میں نے حضرت حارث اعور کو سوار دیکھا اس حالت میں کہ ان کے پیچھے کوئی سوار تھا ۔ آپ نے فرمایا : اگر یہ سواری تیسرے کی صلاحیت رکھتی تو ہم آپ کو بھی سوار کرلیتے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (الحرة).
(٣) في [جـ، م]: زيادة (قال).
(٤) في [ث]: (لحملناك).