مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يستحب للرجل أن يوجد ريحه منه باب: آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اس سے ایسی خوشبو پائی جائے
حدیث نمبر: 28016
٢٨٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن حفص قال: أخبرنا ابن أبي ذئب [عن عثمان بن (عبيد اللَّه) (١) مولى لسعد بن أبي وقاص قال: رأيت ابن عمر] (٢) وأبا هريرة وأبا قتادة وأبا (أسيد) (٣) الساعدي يمرون علينا ونحن في الكتاب، فنجد منهم ريح (العبير) (٤) وهو الخلوق (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عبیداللہ جو حضرت سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ ، حضرت ابو قتادہ اور حضرت ابو اسید ساعدی کو دیکھا ، یہ حضرات ہم پر سے گزرتے تھے اس حال میں کہ ہم مکتب میں ہوتے تھے تو ہم ان سے عبیر کی خوشبو سونگھتے تھے جو زعفران ملی خوشبو ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، م]: (عبد اللَّه)، وانظر: التاريخ الكبير (٦/ ٢٣٦)، والجرح والتعديل (٦/ ١٥٦).
(٢) سقط من: [ث].
(٣) في [ط]: (سيد).
(٤) في [ط]: (العنبر).
(٥) مجهول؛ لجهالة عثمان بن عبيد اللَّه.