مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من تعلم الرمي ثم تركه، كانت (نعمة) يكفرها باب: جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
٢٨٠٠٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد اللَّه) (١) بن سعيد عن أبيه عن (ابن) (٢) أبي حدرد الأسلمي قال: مر رسول اللَّه ﷺ بناس من أسلم وهم يتناضلون، فقال: "ارموا يا بني اسماعيل، فإن أباكم كان راميًا، ارموا وأنا مع ابن ⦗٤٢٢⦘ الأدرع"، فأمسك القوم بأيديهم فقال: "ما لكم لا ترمون؟ " قالوا: يا رسول اللَّه أنرمي وقد قلت أنا مع ابن الأدرع وقد علمنا أن حزبك لا يغلب؟ قال: "ارموا وأنا معكم كلكم" (٣).حضرت ابن ابو حدردا سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ وہ لوگ باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ اور تم تیر چلاؤ اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں، تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں چلا رہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے تیر چلائیں ؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ابن الادرع کے ساتھ ہیں، اور تحقق ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم تیر چلاؤ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔