حدیث نمبر: 27999
٢٧٩٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن هارون (بن عنترة) (١) عن سليم بن حنظلة قال: أتينا أبي بن كعب لنتحدث (عنده) (٢)، فلما قام (قمنا) (٣) نمشي معه، (فلحقه) (٤) عمر، فرفع عليه (عمر) (٥) الدرة فقال: يا أمير المؤمنين أعلم ما تصنع؟، قال: (إن ما) (٦) ترى فتنة للمتبوع (ذلة) (٧) للتابع (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابی بن کعب کے پاس آئے تاکہ ہم ان کے پاس گفتگو کریں۔ جب آپ اٹھ گئے تو ہم بھی اٹھ کر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ پس حضرت عمر ان سے ملے اور ان پر درّہ اٹھایا۔ آپ نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! جان لیں آپ جو کر رہے ہیں ! انہوں نے فرمایا : بیشک یہ جو تم دیکھ رہے ہو یہ متبوع کے لیے فتنہ ہے اور تابع کے لیے ذلت ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن ميسرة).
(٢) في [جـ]: (عنه).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ح، هـ]: (إنما).
(٧) في [هـ]: (مذلة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سليم بن حنظلة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27999، ترقيم محمد عوامة 26840)