مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما (لا) ينبغي للرجل أن يدعو به باب: آدمی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 27984
٢٧٩٨٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد الكريم عن مجاهد قال: كان يكره (أن يقول) (١): اللهم لا (تبتلني) (٢) إلا بالتي هي أحسن ويقول: قال اللَّه تعالى: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ [الأنبياء: ٣٥].مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد یوں دعا کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے، اے اللہ ! تو مجھے آزمائش میں مت ڈال مگر اس چیز کے ساتھ جو بہت بہترین ہو ، اور فرماتے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ : ترجمہ : اور ہم تمہیں آزمائیں گے شر اور بھلائی کے ساتھ۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (تقتلني).