مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما كره من اطلاع الرجل على الرجل باب: آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 27917
٢٧٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش عن طلحة عن (هزيل) (١) قال: جاء رجل فوقف على باب النبي ﷺ يستأذن فقام على الباب فقال (له) (٢) النبي ﷺ: (هكذا عنك (هكذا) (٣) فإنما الاستئذان من النظر" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگا۔ وہ بالکل دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں سے یہاں آ جاؤ۔ اس لیے کہ اجازت تو آنکھ کی وجہ سے مانگی جاتی ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (هذيل).
(٢) زيادة من: [جـ، ح، ث، م].
(٣) في [أ، ح، هـ]: (هذا)، وفي [ث]: (وهكذا).