مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره القصص وضرب فيه باب: جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
حدیث نمبر: 27884
٢٧٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب (١) حدثنا معاوية بن صالح قال: (حدثني) (٢) يحيى بن سعيد الكلاعي عن جبير بن نفير الحضرمي أن أم الدرداء بعثته إلى نوفل بن فلان وقاص معه، يقصان في المسجد، فقالت: قل لهما: ليتقيا اللَّه، (وتكون) (٣) موعظتهما للناس لأنفسهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن کثیر حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے ان کو نوفل بن فلاں کی طرف بھیجا جو کسی خطیب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ان دونوں سے کہو کہ تم دونوں اللہ سے ڈرو۔ اور چاہیے کہ تمہارا لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا اپنی ذات کے لیے ہوجائے۔
حواشی
(١) في [جـ، م]: زيادة (قال).
(٢) في [جـ، م]: (حدثنا).
(٣) في [جـ، م]: (وتكن).