مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره القصص وضرب فيه باب: جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
حدیث نمبر: 27882
٢٧٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سلمة عن أبي الدرداء جار لسلمة قال: قلت لعائشة: (أو) (١) قال لها: رجل آتي القاص (يدعو) (٢) (لي) (٣)؟ فقالت: لأن تدعو لنفسك خير من أن يدعو لك (القاص) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں جو حضرت سلمہ کے پڑوسی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : یا آپ سے کسی شخص نے پوچھا : کیا میں قصہ گو کے پاس اس لیے آسکتا ہوں تاکہ وہ میرے لیے دعا کرے ؟ آپ نے فرمایا : تم خود اپنے لیے دعا کرو یہ بہتر ہے اس سے کہ تمہارے لیے قصہ گو دعا کرے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (و).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (لدعوه).
(٣) سقط من: [جـ، م].
(٤) في [هـ]: (القاصي).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبى الدرداء.