مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره القصص وضرب فيه باب: جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
حدیث نمبر: 27880
٢٧٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ابن عون عن ابن سيرين قال: بلغ عمر أن رجلًا يقص بالبصرة فكتب إليه: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ (١) إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (٢) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ (١) إلى آخر الآية، قال: فعرف الرجل فتركه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی بصرہ میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتا ہے ۔ پس آپ نے اس کو خط لکھا : الر، یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم سمجھ لو۔ ہم تم پر بہترین واقعات بیان کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں ، کہ وہ شخص سمجھ گیا اور اس نے قصہ گوئی چھوڑ دی۔
حواشی
(١) سورة يوسف، الآيات: [١ - ٣]، وفيها سقط في غير [هـ].
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر.