مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره القصص وضرب فيه باب: جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
٢٧٨٧٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سعيد الجريري عن أبي عثمان قال: كتب (عامل) (١) (لعمر) (٢) بن الخطاب إليه أن هاهنا قومًا يجتمعون فيدعون للمسلمين وللأمير، (فكتب إليه عمر) (٣) (٤) أقبل وأقبل بهم معك، فأقبل، وقال عمر للبواب: أعد لي سوطًا، فلما دخلوا على عمر أقبل على أميرهم ضربًا بالسوط، فقال: (يا) (٥) (أمير المؤمنين) (٦): إنا لسنا أولئك الذين (تعني) (٧) أولئك قوم يأتون من قبل المشرق (٨).حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے کسی گورنر نے آپ کو خط لکھا کہ بیشک یہاں چند لوگ ہیں جو جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور امیر کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو خط کا جواب لکھا کہ آپ بھی آئیں اور اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی میرے پاس لائیں ، پس وہ آگئے ۔ حضرت عمر نے دربان سے کہا : میرے لیے کوڑا تیار کرو۔ پس جب وہ لوگ حضرت عمر پر داخل ہوئے تو آپ نے ان کے امیر کو ایک کوڑا مارا۔ اس پر اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو مشرق کی جانب سے آئے ہیں۔