حدیث نمبر: 27845
٢٧٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) إبراهيم بن إسماعيل ابن مجمع عن عبد الكريم (أبي) (٢) أمية عن أم قثم قالت: دخل علينا علي ونحن نلعب بأربعة عشر فقال: ما هذا؟ فقلنا: نحن صيام نتلهى به، قال: أفلا أشتري لكم بدرهم جوزًا تلهون به وتدعونها، قال: فاشترى لنا بدرهم جوزًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم بن ابی امیہ فرماتے ہیں کہ حضرت اُم قثم نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہم پر داخل ہوئے اس حال میں کہ ہم چودہ گوٹ کھیل رہے تھے ؟ آپ نے پوچھا : یہ کیا کر رہے ہو ؟ ! ہم نے کہا : کہ ہم روزے سے ہیں تو اس کے ساتھ ہم اپنا دل بہلا رہے ہیں ! آپ نے فرمایا : کیا میں تمہارے لیے ایک درھم کے اخروٹ نہ خرید لوں تم اس کے ساتھ دل بھی بہلانا اور تم اس کی دعوت بھی کرنا ؟ راوی فرماتے ہیں کہ آپ نے پھر ہمارے لیے ایک درہم کے اخروٹ خریدے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (بن).
(٣) مجهول؛ لجهالة أم قثم، أخرجه ابن سعد (٨/ ٤٦٦).