مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
(باب استماع النبي ﷺ الشعر وغير ذلك) باب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
حدیث نمبر: 27738
٢٧٧٣٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد (١) بن جميع عن أبي سلمة قال: لم يكن أصحاب رسول اللَّه ﷺ (متحزقين) (٢) ولا (متماوتين) (٣) وكانوا يتناشدون الشعر (في) (٤) مجالسهم ويذكرون أمر جاهليتهم، فإذا أريد أحدهم (على) (٥) شيء من (أمر) (٦) دينه دارت حماليق عينيه كأنه مجنون (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بخل کرنے والے نہیں تھے اور نہ ہی عبادت کی ادائیگیوں میں کمزوری دکھانے والے تھے۔ وہ اپنی مجلسوں میں اشعار پڑھا کرتے تھے، اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرتے تھے۔ اور جب ان میں سے کسی کے دین کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا جاتا تو ان کے پیٹوں کا اندرونی حصہ ایسے گھومتا تھا گویا کہ وہ شخص مجنون ہو۔
حواشی
(١) في [ط]: زيادة (عن).
(٢) أي: ليس لديهم زيادة في الشدة والحنق، وفي [هـ]: (منحرفين)، وفي [ح]: (متحرفين).
(٣) أي: ليسوا متضاعفين، وفي [أ، ح، ط]: (متماونين).
(٤) سقط من: [أ، ح، ط].
(٥) في [أ، ح، ط]: (عن).
(٦) زيادة (أمر) من [جـ، م].