حدیث نمبر: 27722
٢٧٧٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق عن عائشة (قال) (٢): دخل عليها حسان بن ثابت بعد ما كف بصره، فقيل لها: (أتدخلين) (٣) عليك هذا الذي قال اللَّه: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [النور: ١١]، قالت: أو ليس في عذاب عظيم، قد (كف) (٤) بصره، قال: فأنشدها بيتًا قاله لابنته: حصان رزان ما (تزن) (٥) بريبة … و (صبح) (٦) غرثى من لحوم الغوافل قالت: لكن أنت لست كذلك (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت حسان بن ثابت اپنی بینائی چلے جانے کے بعدآئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ آپ کے پاس وہ شخص آیا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے یوں فرمایا : کہ جس نے اٹھایا اس کا بڑا بوجھ اس کے لیے بڑا عذاب ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : کیا وہ بڑے عذاب میں نہیں ہے کہ تحقیق اس کی بینائی چلی گئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت حسان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں شعر سنایا جو اپنی بیٹی کے لیے کہا تھا۔ : وہ پاکدامن ہیں، بےعیب ہیں، کسی برے کام کا انہوں نے ارتکاب نہیں کیا۔ وہ پاکدامن عورتوں کے عزت پر انگلی نہیں اٹھاتیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لیکن تم ایسے نہیں ہو۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ز، ط، هـ]: زيادة (أبو معاوية عن مسلم عن الأعمش عن مسروق).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (قالت).
(٣) في [هـ]: (يدخلين).
(٤) في [م]: (كيف).
(٥) في [هـ]: (ترن).
(٦) في [أ، ح، ط]: (يصبح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٤٦)، ومسلم (٢٤٨٨)،
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27722، ترقيم محمد عوامة 26565)