حدیث نمبر: 27714
٢٧٧١٤ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن أبي حيان عن مجمع قال: بنى علي سجنًا فسماه نافعًا، ثم بدا له فكسره وبنى (أحصن) (٢) منه ثم قال بيت شعر: ألم (تريني) (٣) كيسا مكيسا … بنيت بعد نافع مخيسا (٤)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجمع فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جیل بنائی اور اس کا نام نافع رکھا پھر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آیا تو آپ نے اسے توڑ کر اس سے بھی مضبوط جیل بنائی پھر آپ نے یہ شعر کہا :: کیا میں تمہیں صاحب عقل اور معروف عقلمند نہیں لگتا۔ میں نے نافع جیل کے بعد مخیس جیل بنادی۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (يحيى).
(٢) في [ث]: (احكم).
(٣) في [أ، ح، ط]: (تر).
(٤) منقطع؛ مجمع لا يروي عن علي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27714
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27714، ترقيم محمد عوامة 26557)