مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
(باب استماع النبي ﷺ الشعر وغير ذلك) باب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
٢٧٧٠٩ - حدثنا أبو أسامة (قال: أخبرنا مجالد) (١) قال: أخبرني عامر قال: (أخبرنا) (٢) ربعي (بن حراش) (٣) أنه أتى (٤) عمر في نفر من غطفان (فذكروا) (٥) الشعر فقال عمر: أي شعرائكم أشعر؟ فقالوا: أنت أعلم يا أمير المؤمنين قال: فقال عمر: من الذي يقول: أتيتك عاريًا خلقًا ثيابي … على خوف (يظن) (٦) بي الظنون (فألفيت) (٧) الأمانة لم تخنها … ذلك كان نوح لا يخون (قلنا: النابغة) (٨). ثم قال مثل ذلك، ثم قال: من الذي يقول: ⦗٣٣٣⦘ حلفت فلم (أترك) (٩) (لنفسي) (١٠) ريبة … وليس وراء اللَّه للمرء مذهب ثم قال: من الذي يقول: (إلا سليمان) (١١) إذ قال الإله له … قم في البرية فازجرها عن الفند قلنا: النابغة قال: هذا أشعر شعرائكم (١٢).حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ربعی بن حراش نے ارشاد فرمایا : میں غطفان کے لشکر میں حضرت عمر کے پاس آیا تو وہ لوگ شعروں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر کون سا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : امیر المؤمنین ! آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : میں تیرے پاس اس حال میں آیا کہ میں ننگے پاؤں تھا اور میرے کپڑے پرانے تھے۔ بہت سے اندیشوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ میں اپنی امانت کو اس حال میں پایا کہ تو نے اس میں خیانت نہ کی تھی۔ حضرت نوح بھی خیانت نہ کیا کرتے تھے۔ ہم لوگوں نے جواب دیا : نابغہ نے، آپ پھر ایسے ہی فرمایا اور پوچھا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : میں قسم کھاتا ہوں تاکہ تیرے دل میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اور اللہ کے سوا تو آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : سوائے سلیمان کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا لوگوں میں کھڑے ہوجاؤ اور انہیں دنیا کے فانی ہونے کا درس دو ۔ ہم نے جواب دیا : نابغہ نے۔ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر ہے۔