حدیث نمبر: 27612
٢٧٦١٢ - حدثنا عبد الأعلى عن الجويري عن أبي عثمان قال: بينما عمر يسير في أصحابه وفي القوم رجل يسير على بعير له من القوم يضعه حيث يشاء، فلا أدري بما التوى عليه فلعنه، فقال عمر: من هذا اللاعن؟ قالوا: فلان، قال: تخلف عنا أنت وبعيرك، لا تصحبنا (راحلة) (١) ملعونة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سفر کر رہے تھے کہ لوگوں میں ایک شخص جو اپنے اونٹ پر سفر کر رہا تھا اور قوم میں سے جو چاہتا اس کو سامان رکھ دیتا ، میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا دشواری آئی کہ اس نے اونٹ کو لعنت کی، اس پر حضرت عمر نے پوچھا : یہ لعنت کرنے والا کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں شخص ہے۔ آپ نے فرمایا : تو اور تیرا اونٹ ہم سے دور ہوجائیں ہم کسی ملعون سواری کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے۔
حواشی
(١) في [ط]: (رجله).