مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في السلام على أهل (الذمة) ومن قال: (للصعبة) حق باب: ذمیوں پر سلام کرنے کا بیان اور جو یوں کہے کہ ہم نشینی کا بھی کچھ حق ہے
حدیث نمبر: 27540
٢٧٥٤٠ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا (معمر) (١) قال: بلغني أن أبا هريرة مر على يهودي فسلم (٢)، فقيل له إنه يهودي، فقال: يا ⦗٢٨٨⦘ يهودي رد على سلامي وأدعو لك، قال: قد رددته، (قال) (٣): اللهم (كثر) (٤) ماله وولده (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ حضرت ابوہریرہ ایک یہودی کے پاس سے گزرے اور اس کو سلام کیا۔ آپ کو بتلایا گیا : یہ تو یہودی ہے ! آپ نے فرمایا : اے یہودی مجھے میرا سلام لوٹا دو اور میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔ اس یہودی نے کہا کہ تحقیق میں نے اس کو لوٹا دیا۔ آپ نے یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے۔
حواشی
(١) هو البصري، انظر: تهذيب الكمال (٢٨/ ٣٠٣)، وفي [أ، ح، ط، هـ]: (معتمر).
(٢) في [جـ، ز]: زيادة (عليه).
(٣) في [جـ]: (فقال).
(٤) في [أ، جـ، ح، ز]: (أكثر).
(٥) مجهول، لإبهام الراوي عن أبي هريرة.