حدیث نمبر: 27477
٢٧٤٧٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: لقي رجل عكرمة بالمدينة فقال: كيف أنت؟ قال: (أنا) (١) (بشر) (٢) يداي (متشققتان) (٣) وأنا كذا (و) (٤) كذا، قال: وكان يتأول هذه الآية: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ [الأنبياء: ٣٥].
مولانا محمد اویس سرور

ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ حضرت عکرمہ سے مدینہ میں ملا، اور پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بری حالت میں ہوں، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے ہیں اور میں اس طرح اور اس طرح ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس آیت کی تاویل کرتے تھے۔ { وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْنَا تُرْجَعُونَ }۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (أنا).
(٢) في [أ، ح، ط]: (بشر).
(٣) في [هـ]: (مسقفان).
(٤) في [جـ]: (وأنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27477
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27477، ترقيم محمد عوامة 26327)