حدیث نمبر: 27410
٢٧٤١٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المسعودي عن عون بن عبد اللَّه قال: سأل محمد بن كعب عمر بن عبد العزيز عن ابتداء أهل الذمة بالسلام فقال: (نرد) (١) عليهم ولا (نبدؤهم) (٢)، فقلت: وكيف تقول أنت؟ قال: ما أرى بأسًا أن (نبدأهم) (٣)، (قلت) (٤): لم؟ قال: لقول اللَّه (٥): ﴿(فَاصْفَحْ) (٦) عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ (يَعْلَمُونَ) (٧)﴾ [الزخرف: ٨٩].مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن کعب نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے ذمیوں کو سلام کرنے میں پہل کرنے کے بارے میں پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : ان کو سلام کا جواب دیا جائے گا اور تم ان پر سلام میں پہل نہ کرو۔ میں نے پوچھا : آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم بھی ان پر سلام میں پہل کرو۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے۔ ترجمہ : تم ان سے درگزر کرو اور یوں کہو : سلام، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (يرد).
(٢) في [جـ، ز]: (نبتدئهم)، وفي [أ، ح، ط]: (يبدأهم).
(٣) في [أ، ح، ط]: (يبدأهم).
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (قال).
(٥) في [ز]: زيادة (تعالى).
(٦) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (فاعرض).
(٧) في [أ، ح، ط]: (تعملون).