مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كان (يكره إذا) سلم أن (يقول): السلام عليك، حتى يقول: عليكم باب: جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
حدیث نمبر: 27355
٢٧٣٥٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (الجلد) (١) بن أيوب عن معاوية بن قرة ⦗٢٣٩⦘ عن (أبيه) (٢) قال: أوصاني أبي قال: إذا لقيت رجلًا فلا تقل: السلام عليك، قل السلام عليكم (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تم کسی آدمی سے ملاقات کرو تو اسے السلام علیک مت کہو، یوں کہو السلام علیکم۔
حواشی
(١) في [هـ]: (خالد).
(٢) في [جـ]: (أمه).