مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الرجل يرد السلام على الرجل كيف يرد عليه؟ باب: اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے؟
حدیث نمبر: 27341
٢٧٣٤١ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن ميمون أن رجلًا سلم على ⦗٢٣٥⦘ سلمان الفارسي فقال: السلام (عليكم) (١) ورحمة اللَّه (تعالى) (٢) وبركاته، فقال سلمان: حسبك (حسبك) (٣)، ثم رد (عليه) (٤) الذي قال، ثم (زاد) (٥) أخرى فقال له الرجل: (أتعرفني) (٦) يا أبا عبد اللَّه؟ فقال: أما روحي فقد (عرف) (٧) روحك (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سلمان فارسی کو سلام کیا اور کہا : السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، حضرت سلمان نے کہا، کافی ہے کافی ہے، پھر آپ نے ویسے ہی اس کو جواب دیا جیسا کہ اس شخص نے سلام کیا تھا، پھر چند اور کلمات کا اضافہ فرمایا : اس پر اس شخص نے آپ سے پوچھا : اے ابو عبد اللہ ! کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میری روح تمہاری روح کو جانتی ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عليك).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ز، ح].
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [أ، ح، هـ]: (على).
(٥) في [أ، هـ]: (أراد).
(٦) في [ط]: (أترفني).
(٧) في [ز]: (عرف).
(٨) منقطع؛ ميمون لا يروي عن سلمان.