مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما ذكر (من) علامة النفاق باب: ان روایات کا بیان جو نفاق کی نشانیوں کے بارے میں ذکر کی گئیں
٢٧٢٦٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن صُبَيح (بن عبد اللَّه) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ثلاث من كن فيه فهو منافق: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف] (٢)، وإذا أؤتمن خان، قال: وتلا هذه الآية: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا ⦗٢١٦⦘ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [التوبة: ٧٥]، إلى قوله: ﴿نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ﴾، إلى قوله: ﴿وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴾ [التوبة: ٧٧] (٣).حضرت صبیح بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں جس میں بھی پائی جائیں تو وہ منافق ہوگا۔ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ، اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : ” اور انہیں میں وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمں ی نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور یقینا نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گیں لیکن جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے اور منہ موڑ کر چل دئیے۔ نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لئے جما دیا جس دن وہ اللہ سے جا کر ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ “