مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما قالوا: في النهي (عن) الوقيعة في الرجل والغيبة باب: کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
حدیث نمبر: 27188
٢٧١٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن زيد بن (صوحان) (١) قال: قال عمر: ما يمنعكم إذا رأيتم الرجل (يخرق) (٢) أعراض الناس لا (تغيروا) (٣) عليه؟ قالوا: نتقي لسانه، قال: (ذاك) (٤) أدنى أن تكونوا شهداء (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن صوحان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تمہیں کس چیز نے روک دیا کہ جب تم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی عزتیں خراب کر رہا ہے اور تمہیں اس پر غیرت تک نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کیا : ہم تو اس کی زبان سے بچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ تو اور بھی گھٹیا بات ہے کہ تم گواہ بن رہے ہو۔
حواشی
(١) في [ز]: (صوخان).
(٢) في [ط]: (يحرق)، وفي [أ، ح]: (مخزق).
(٣) في [ط]: (لا يغروا).
(٤) في [ز]: (ذلك).