مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يؤمر به الرجل في مجلسه؟ باب: کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
٢٧١٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا حميد الطويل عن أنس قال: كنت مع الغلمان فمر علينا النبي ﷺ (١) فسلم (علينا) (٢)، ثم بعثني في حاجة وجلس في جدار أو في ظل حتى أتيته فأبلغته حاجته، فلما أتيت أم سليم قالت: ما حبسك اليوم؟ قلت: (بعثني) (٣) النبي ﷺ (في حاجة) (٤)، قالت: ما هي؟ قلت: إنها سر قالت: فاحفظ سر رسول اللَّه ﷺ (قال) (٥): فما حدثت بها أحدا (قط) (٦) (٧).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا اور دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے یہاں تک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کام کے بارے میں بتلایا۔ پھر جب میں حضرت ام سلیم کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : آج کس بات نے تمہیں روکے رکھا ؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام بھیج دیا تھا۔ انہوں نے پوچھا : کیا کام تھا ؟ میں نے کہا : بیشک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہے۔ آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے کسی کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتلایا۔