مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يؤمر به الرجل في مجلسه؟ باب: کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 27180
٢٧١٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن عجلان عن إبراهيم بن مرة عن محمد بن شهاب قال: قال عمر: لا تعترض فيما لا يعنيك، واعتزل عسدوك، واحتفظ من (خليلك) (١) إلا (الأمين) (٢)، فإن (الأمين) (٣) (٤) يعادله شيء، ولا (تصحب) (٥) الفاجر فيعلمك من فجوره، ولا تفش إليه (بسرك) (٦)، واستشر في أمرك الذين يخشون اللَّه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا؛ اس کام کے پیچھے مت پڑو جو تمہیں فائدہ نہ پہنچائے اور اپنے دشمن سے بچو اور اپنے دوست سے بچو سوائے امانت دار شخص کے۔ اس لیے کہ قوم میں سے امانت دار شخص کی برابری کوئی چیز نہیں کرسکتی اور بدکار کی صحبت اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ وہ اپنی بدکاری میں سے تمہیں بھی سکھلا دے گا اور اس کے سامنے اپنے کسی راز کو فاش مت کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ مانگو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
حواشی
(١) في [ز]: (حبك)، وفي [هـ]: (خليك).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (الأمير).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (الأمير).
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (من القوم).
(٥) في [جـ، ز]: (تصاحب).
(٦) في [هـ]: (سرك).
(٧) منقطع؛ ابن شهاب لم يدرك عمر.