مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يؤمر به الرجل في مجلسه؟ باب: کسی آدمی کو مجلس میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے
٢٧١٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن المجالد قال: أخبرني عامر عن ابن عباس قال: قال العباس لابنه عبد اللَّه (١): يا بني! إني أرى أمير المؤمنين يقربك (ويستشيرك) (٢) مِع أناس من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ويخلو بك، (فاحفظ) (٣) عني ثلاثًا: ⦗١٩٠⦘ اتق (٤) (لا يجربنّ) (٥) عليك كذبة، ولا تفشين له سرًا، ولا (تغتابنّ) (٦) عنده أحدًا، قال: فقلت لابن عباس: يا أبا عباس! كل واحدة منهن خير من (ألف) (٧) قال: ومن عشرة آلاف (٨).حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عباس نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! میں امیر المؤمنین کو دیکھتا ہوں کہ وہ تجھے اپنے قریب کرتے ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ تجھ سے بھی مشورہ طلب کرتے ہیں اور تیرے ساتھ خلوت کرتے ہیں پس تو میری طرف سے تین باتیں محفوظ کرلے۔ تم بچو اس بات سے کہ وہ تم پر جھوٹ کو آزمائیں اور تم ہرگز کبھی بھی ان کے راز کو فاش مت کرنا اور ان کے سامنے کبھی کسی کی غیبت مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : بلکہ دس ہزار سے بہتر ہے۔