مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما جاء في حق الجوار باب: ان روایات کا بیان جو پڑوسی کے حق کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 27066
٢٧٠٦٦ - (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا جعفر بن برقان عن ميمون (بن) (٢) مهران قال: كان رجل من المسلمين يصوم فكان يجعل (٣) لسحوره (قرصًا) (٤) فجاءت الشاة فأخذت القرص، (فقامت) (٥) المرأة ففكت (لحييَّ) (٦) الشاة فأخذت القرص (فثغت) (٧) الشاة فقال الرجل: ما يدريك ما بلغ (ثغاؤها) (٨) من أذى جارك؟.مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی سحری کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا رکھتا تھا ۔ پس بکری آئی اور اس نے روٹی کا ٹکڑ ا لے لیا، اتنے میں اس کی بیوی نے کھڑے ہو کر اس سے محلہ دار کی بکری کو باندھ دیا اور اس سے روٹی کا ٹکڑا لے لیا، تو بکری نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ اس آدمی نے کہا : کیا تو جانتی ہے کہ اس کی چیخنے سے بھی پڑوسی کو تکلیف پہنچے گی ؟
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ز]: (عن).
(٣) في [أ، ح، ز]: زيادة (له).
(٤) في [جـ]: (قرص).
(٥) في [جـ]: (فجاءت).
(٦) في [ط، هـ]: (لحيتي).
(٧) في [أ، ز]: (فتبعت)، ووجد في حاشية [أ، ح]: (لعله فثغت).
(٨) في [ح، هـ]: (ثغاها).