حدیث نمبر: 27061
٢٧٠٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) سلام بن مسكين قال: حدثنا (شهر) (٢) بن حوشب عن محمد بن (يوسف بن) (٣) عبد اللَّه بن سلام أن رجلا أتى النبي ﷺ فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثانية فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثالثة فقال: آذاني جاري، فقال: "اعمد إلى متاعك فاقذفه في السكة، فإذا مر بك أحد فقل: آذاني جاري، فتحق عليه اللعنة (أو) (٤) تجب عليه (اللعنة) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو۔ پھر وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو، پھر وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اپنا سامان گلی میں پھینک دو ، اور جب تمہارے پاس سے کوئی بھی شخص گزرے تو اس کو کہو ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، پس اس پر لعنت ہوگی یا یوں فرمایا : اس پر لعنت واجب ہوجائے گی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [ط]: (شهد).
(٣) في [جـ، ز]: زيادة (يوسف بن).
(٤) في [ط]: (و).
(٥) في [ح]: (العنة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27061
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن يوسف تابعي، أخرجه أحمد (١٦٤٠٨) و (٢٣٨٣٤)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٣٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27061، ترقيم محمد عوامة 25928)