مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما جاء في حق الجوار باب: ان روایات کا بیان جو پڑوسی کے حق کے بارے میں منقول ہیں
٢٧٠٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) سلام بن مسكين قال: حدثنا (شهر) (٢) بن حوشب عن محمد بن (يوسف بن) (٣) عبد اللَّه بن سلام أن رجلا أتى النبي ﷺ فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثانية فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثالثة فقال: آذاني جاري، فقال: "اعمد إلى متاعك فاقذفه في السكة، فإذا مر بك أحد فقل: آذاني جاري، فتحق عليه اللعنة (أو) (٤) تجب عليه (اللعنة) (٥) " (٦).حضرت محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو۔ پھر وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو، پھر وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اپنا سامان گلی میں پھینک دو ، اور جب تمہارے پاس سے کوئی بھی شخص گزرے تو اس کو کہو ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، پس اس پر لعنت ہوگی یا یوں فرمایا : اس پر لعنت واجب ہوجائے گی۔